کہانی نمبر 1: سچائی کا انعام
"یہ کس کا بٹوہ ہو سکتا ہے؟"
وہ جھک کر بٹوہ اُٹھاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس میں کافی پیسے ہیں، ساتھ ہی ایک شناختی کارڈ بھی رکھا ہوا ہے۔ احمد سوچ میں پڑ گیا۔ اگر وہ چاہے تو یہ پیسے رکھ سکتا ہے، لیکن اس کے دل نے کہا:
"نہیں احمد، یہ تمہارا مال نہیں۔ کسی کا کھویا ہوا بٹوہ ہے، اور جو چیز کسی کی ہو، وہ واپس کرنی چاہیے۔"
:احمد بٹوہ لے کر گھر گیا۔ اُس کی ماں نے پوچھا
"بیٹا، یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟"
احمد نے جواب دیا:
"امی! یہ مجھے راستے میں ملا ہے۔ دیکھیں، اس میں پیسے اور کارڈ بھی ہے۔ مجھے لگتا ہے کسی کا کھو گیا ہے۔"
:امی نے مسکرا کر کہ
"شاباش میرے بچے! تمہارا دل بالکل صحیح کہہ رہا ہے۔ سچائی سب سے بڑی دولت ہے۔ ہمیں فوراً بٹوے کے مالک کو ڈھونڈنا چاہیے۔"
پھر احمد اور اُس کی ماں کارڈ پر لکھی ہوئی معلومات دیکھ کر بٹوے کے مالک کے گھر پہنچ گئے۔ جب دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو ایک ادھیڑ عمر آدمی باہر آئے۔ احمد نے ادب سے کہا:
"انکل! یہ بٹوہ شاید آپ کا ہے۔ یہ مجھے راستے میں ملا تھا۔"
آدمی نے بٹوہ دیکھ کر حیرت سے کہا:
"ارے بیٹا! ہاں، یہ تو میرا ہی ہے۔ میں بازار سے واپس آتے ہوئے کہیں گر گیا تھا۔ میں تو بہت پریشان تھا۔ تم نے میرا بہت بڑا نقصان بچا لیا۔"
وہ آدمی خوشی سے احمد کو دعائیں دینے لگا۔ اُس نے کہا:
"بیٹا، تم اگر چاہتے تو یہ پیسے رکھ لیتے، مگر تم نے سچائی کا ساتھ دیا۔ تمہاری ایمانداری کی وجہ سے میرا دل خوش ہو گیا۔"
احمد کے چہرے پر خوشی کی مسکراہٹ آ گئی۔ اُس نے دل میں سوچا کہ سچائی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ مالک نے شکریہ کے طور پر احمد کو کچھ انعام دینا چاہا، مگر احمد نے ادب سے کہا:
"انکل! مجھے انعام کی ضرورت نہیں، میری خوشی یہی ہے کہ آپ کو آپ کی امانت واپس مل گئی۔"
آدمی نے احمد کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا:
"بیٹا، تمہیں اللہ ہمیشہ کامیاب کرے۔"
احمد گھر واپس آیا تو اُس کی ماں نے اُسے سینے سے لگا کر کہا:
"میں تم پر فخر کرتی ہوں۔ تم نے آج سچائی اور ایمانداری کی بہترین مثال قائم کی ہے۔"
اُس دن احمد کو یہ سبق ملا کہ دنیا کی سب سے بڑی دولت سچائی ہے۔ اگر ہم ایمانداری کو اپنائیں تو نہ صرف لوگ ہم پر اعتماد کریں گے بلکہ اللہ بھی خوش ہو گا۔

0 Comments