کہانی نمبر 2: دوستی کا معیار
احمد اور بلال بچپن کے دوست تھے۔ دونوں ایک ہی محلے میں رہتے اور ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ بچپن میں اُن کی دوستی بہت معصوم تھی، کھیل کود، ہنسی مذاق اور چھوٹی چھوٹی شرارتیں۔ لیکن جیسے جیسے وہ بڑے ہوئے بلال کا جھکاؤ غلط دوستوں کی طرف بڑھنے لگا۔
ایک دن بلال نے احمد سے کہا:
"یار، آج کلاس چھوڑ دیتے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ باہر چلتے ہیں۔"
احمد نے حیرت سے پوچھا:
"کلاس چھوڑ کر؟ لیکن آج تو سائنس کا لیکچر ہے۔"
بلال نے ہنس کر جواب دیا:
"کتابوں سے کیا ملے گا؟ زندگی کا مزہ دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے میں ہے۔"
احمد نے سنجیدگی سے کہا:
"بلال، یہ صحیح نہیں ہے۔ دوستی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو غلط راستے پر ڈالیں۔ بلکہ اصل دوستی تو وہ ہے جو ہمیں اچھائی کی طرف لے جائے۔"
بلال نے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا:
"تم تو بڑے نیک اور نصیحتیں کرنے والے بن گئے ہو۔"
کچھ دن بعد اسکول میں امتحانات ہوئے۔ احمد نے محنت سے تیاری کی تھی، لیکن بلال نے نقل کا منصوبہ بنایا۔ وہ امتحان میں پکڑا گیا اور ہیڈ ماسٹر نے اُس پر سخت پابندی لگا دی۔ اُس کا پورا سال ضائع ہو گیا۔
بلال روتے ہوئے احمد کے پاس آیا اور کہا:
"دوست! کاش میں تمہاری بات مان لیتا۔ تم ہی سچے دوست تھے جو مجھے بار بار سمجھاتے رہے۔ میں نے تمہاری نصیحت کو مذاق سمجھا اور آج میرا نقصان ہو گیا۔"
احمد نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
"اب بھی دیر نہیں ہوئی۔ اگر تم اپنی غلطی تسلیم کر لو اور محنت سے پڑھائی شروع کرو تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔"
بلال نے عہد کیا کہ اب وہ کبھی غلط صحبت میں نہیں جائے گا۔ اُس نے احمد کے ساتھ مل کر پڑھائی شروع کی اور اگلے سال دونوں نے شاندار کامیابی حاصل کی۔
سبق: سچا دوست وہ ہے جو مشکل میں بھی صحیح راستہ دکھائے۔ دوستی کا معیار خوشی میں ساتھ دینا نہیں، بلکہ برائی سے بچانا ہے۔

0 Comments