کہانی نمبر 2: لالچ بری بلا ہے
ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اُس کا نام اکبر تھا۔ اکبر محنتی تو تھا لیکن اکثر لالچ میں آ کر غلط فیصلے کر لیتا تھا۔ اُس کے پاس ایک خاص مرغی تھی۔ یہ مرغی عام مرغیوں کی طرح نہیں تھی بلکہ روزانہ ایک سنہری انڈہ دیتی تھی۔
لیکن اکبر پر لالچ کا بھوت سوار تھا۔ اُس نے بیوی کی بات کو نظر انداز کر دیا اور دوسرے دن مرغی کو ذبح کر دیا۔ وہ بڑی امید سے مرغی کا پیٹ چاک کرنے لگا لیکن جیسے ہی اُس نے اندر دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہاں تو کوئی انڈہ نہیں تھا!
کچھ دنوں بعد کسان کو اپنی غلطی کا اور بھی احساس ہوا۔ پہلے وہ روز سنہری انڈے بیچ کر خوشحال زندگی گزارتا تھا، لیکن اب اُس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ اُس نے دل ہی دل میں دعا کی کہ کاش وہ لالچ نہ کرتا اور صبر کا دامن تھامے رہتا۔
اکبر کو اُس دن یہ سبق ملا کہ لالچ انسان سے موجودہ خوشیاں بھی چھین لیتا ہے۔ اگر وہ صبر کرتا تو ہمیشہ خوشحال رہ سکتا تھا۔
سبق: لالچ بری بلا ہے، اور صبر سے ہمیشہ برکت ملتی ہے۔

0 Comments