Greed Brings Loss – Children’s Moral Story 2025

 کہانی نمبر 2: لالچ بری بلا ہے

ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اُس کا نام اکبر تھا۔ اکبر محنتی تو تھا لیکن اکثر لالچ میں آ کر غلط فیصلے کر لیتا تھا۔ اُس کے پاس ایک خاص مرغی تھی۔ یہ مرغی عام مرغیوں کی طرح نہیں تھی بلکہ روزانہ ایک سنہری انڈہ دیتی تھی۔

اکبر ان انڈوں کو بیچتا اور اچھے خاصے پیسے کما لیتا۔ کچھ عرصے میں اُس کے حالات کافی بہتر ہو گئے۔ مگر اکبر کے دل میں لالچ پیدا ہو گیا۔ ایک دن اُس نے اپنی بیوی سے کہا:
"دیکھو زینت! یہ مرغی ہمیں روز صرف ایک انڈہ دیتی ہے۔ اگر ہم مرغی کو کاٹ دیں تو ہمیں ایک ہی وقت میں سارے انڈے مل جائیں گے۔ پھر ہم جلدی ہی امیر ہو جائیں گے۔"

زینت نے فکر مندی سے جواب دیا:
"اکبر! ایسی بات مت کرو۔ اللہ نے ہمیں روزانہ کا رزق دیا ہے۔ صبر کرنا چاہیے۔ ہوس اور لالچ نقصان دے سکتا ہے۔"

لیکن اکبر پر لالچ کا بھوت سوار تھا۔ اُس نے بیوی کی بات کو نظر انداز کر دیا اور دوسرے دن مرغی کو ذبح کر دیا۔ وہ بڑی امید سے مرغی کا پیٹ چاک کرنے لگا لیکن جیسے ہی اُس نے اندر دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہاں تو کوئی انڈہ نہیں تھا!

اکبر کی آنکھوں سے پشیمانی کے آنسو نکلنے لگے۔ وہ چیخ کر بولا:
"ہائے! میں نے کیا کر ڈالا؟ نہ مرغی رہی اور نہ سنہری انڈے!"

زینت نے افسوس سے کہا:
"میں نے تمہیں سمجھایا تھا کہ لالچ انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ صبر ہی سب سے بڑی دولت ہے۔ دیکھو اب ہم دونوں خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔"

کچھ دنوں بعد کسان کو اپنی غلطی کا اور بھی احساس ہوا۔ پہلے وہ روز سنہری انڈے بیچ کر خوشحال زندگی گزارتا تھا، لیکن اب اُس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ اُس نے دل ہی دل میں دعا کی کہ کاش وہ لالچ نہ کرتا اور صبر کا دامن تھامے رہتا۔

اکبر کو اُس دن یہ سبق ملا کہ لالچ انسان سے موجودہ خوشیاں بھی چھین لیتا ہے۔ اگر وہ صبر کرتا تو ہمیشہ خوشحال رہ سکتا تھا۔

سبق: لالچ بری بلا ہے، اور صبر سے ہمیشہ برکت ملتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments