کہانی نمبر 4: والدین کی خدمت
ریحان ایک ذہین اور خوش مزاج لڑکا تھا۔ وہ کھیلوں میں بھی اچھا تھا اور پڑھائی میں بھی۔ اسکول میں سب اُسے پسند کرتے تھے لیکن گھر میں اُس کی ایک کمزوری سب کو دکھائی دیتی تھی: وہ والدین کی باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا۔ اکثر اُس کی ماں کہتیں:
"بیٹا! پڑھائی اور کھیل دونوں اچھے ہیں، مگر اپنے والدین کی خدمت سب سے بڑھ کر ہے۔"
ریحان ہنستے ہوئے جواب دیتا:
"امی! آپ تو ہر وقت نصیحتیں کرتی رہتی ہیں۔ میں بڑا ہو جاؤں گا تو آپ کے لیے سب کچھ کروں گا۔ ابھی تو مجھے اپنی زندگی پر توجہ دینی ہے۔"
ایک دن ریحان کی ماں شدید بیمار ہو گئیں۔ اُنہوں نے نرمی سے کہا:
"بیٹا! ذرا میرے لیے دوا لے آؤ، بخار بہت بڑھ رہا ہے۔"
ریحان اُس وقت اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل میں مصروف تھا۔ اُس نے جلدی میں کہا:
"امی! ابھی کھیل ختم کر لوں، پھر لے آؤں گا۔"
دو گھنٹے بعد جب وہ دوا لے کر آیا تو دیکھا کہ ماں کی حالت مزید خراب ہو چکی تھی۔ والد سخت فکر مند تھے۔ پڑوسی نے ڈانٹتے ہوئے کہا:
"ریحان! تم نے اپنی ماں کو تکلیف میں اکیلا چھوڑ دیا؟ دنیا کی سب سے بڑی نعمت والدین ہیں۔ جو اُن کی خدمت نہیں کرتا، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔"
ریحان کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔ اُس نے ماں کے قدموں میں بیٹھ کر کہا:
"امی! مجھے معاف کر دیں۔ میں نے آپ کی باتوں کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ اب وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی خدمت کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھوں گا۔"
ماں نے کمزور آواز میں کہا:
"بیٹا! خدمت ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ جو اولاد اپنے والدین کا خیال رکھتی ہے، اللہ اُس پر اپنی رحمت نازل کرتا ہے۔"
اس دن کے بعد ریحان بدل گیا۔ وہ صبح اُٹھتے ہی والدین کی خدمت میں لگ جاتا، اُن کے کاموں میں ہاتھ بٹاتا۔ کھیل اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا لیکن سب سے پہلے اپنے والدین کو اہمیت دیتا۔
وقت گزرا تو ریحان کی زندگی میں سکون اور برکت آنے لگی۔ امتحانات میں وہ پہلے سے زیادہ اچھے نمبر لینے لگا۔ اُس کی شخصیت میں نرمی اور عاجزی آ گئی۔ استاد بھی کہتے:
"ریحان اب نہ صرف ذہین ہے بلکہ ایک اچھا انسان بھی ہے۔"
جب اُس نے کالج میں داخلہ لیا تو والدین نے دعاؤں کے ساتھ اُسے رخصت کیا۔ ریحان اکثر اپنے دوستوں کو کہتا:
"کامیابی کا راز کتابوں اور محنت میں ہے، مگر اصل طاقت والدین کی دعاؤں میں ہے۔"
سبق: والدین کی خدمت کرنے والا دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے۔

0 Comments