کہانی نمبر 5: علم اور عمل
عائشہ ایک ذہین اور شوقین لڑکی تھی۔ اُس کا زیادہ تر وقت کتابوں میں گزرتا۔ اُس کے کمرے میں ہر موضوع کی کتابیں رکھی تھیں: سائنس، اسلامیات، ادب، تاریخ۔ وہ روزانہ کئی گھنٹے پڑھائی میں گزارتی اور نئی نئی معلومات دوسروں کو سنانا پسند کرتی۔
کبھی وہ اپنی سہیلیوں کو بتاتی:
"تم جانتی ہو کہ زمین سورج کے گرد کتنی تیزی سے گھومتی ہے؟"
کبھی کہتی:
"اسلام ہمیں صفائی اور ایمانداری کا حکم دیتا ہے۔"
سہیلیاں حیران ہوتیں اور کہتیں:
"عائشہ، تم واقعی بہت علم رکھتی ہو۔"
لیکن اکثر وہ ہنس کر یہ بھی کہتیں:
"اتنا علم حاصل کرنے کے باوجود تمہارے عمل میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ تم ابھی بھی وقت پر نہیں آتیں، کبھی جھنجھلا جاتی ہو، اور دوسروں کی بات کو نظر انداز کر دیتی ہو۔"
عائشہ یہ بات سن کر برا مان جاتی اور جواب دیتی:
"علم حاصل کرنا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ عمل تو بعد میں آ جائے گا۔"
ایک دن اسکول میں استاد نے اُس سے سوال کیا:
"بیٹی! اگر کوئی شخص صحت کی کتابیں پڑھے، غذا اور ورزش کے اصول یاد کر لے لیکن خود کبھی ورزش نہ کرے، تو کیا وہ تندرست رہ سکتا ہے؟"
عائشہ نے فوراً کہا:
"جی نہیں سر، ایسا ممکن نہیں۔"
استاد نے مسکرا کر کہا:
"بالکل، اسی طرح علم بھی اُس وقت فائدہ دیتا ہے جب ہم اُس پر عمل کریں۔ بغیر عمل کے علم بیکار ہے۔"
یہ بات عائشہ کے دل پر اثر کر گئی۔ اُس نے سوچا:
"میں روز دوسروں کو اچھی باتیں بتاتی ہوں لیکن خود اُن پر عمل نہیں کرتی۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے اندھیرے میں روشنی کی بات کرنا مگر چراغ نہ جلانا۔"
اُس دن کے بعد عائشہ نے اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کیا۔ سب سے پہلے اُس نے وقت کی پابندی شروع کی۔ صبح وقت پر اُٹھتی، نماز باقاعدگی سے پڑھتی اور پڑھائی کو ایک منظم شیڈول کے تحت کرتی۔ اُس نے سیکھا کہ علم صرف کتابوں میں محدود نہ ہو بلکہ زندگی کے ہر حصے میں جھلکے۔
اسلامیات میں پڑھے گئے اصول اُس نے اپنی عادتوں میں ڈھالے۔ وہ والدین کی خدمت کرنے لگی، چھوٹی بہنوں کی پڑھائی میں مدد کرتی اور اسکول میں سہیلیوں کے ساتھ ایمانداری سے رہتی۔ سائنس کی معلومات کو عملی تجربوں میں آزمایا، صحت مند خوراک اپنائی اور روز ورزش شروع کی۔
چند ماہ بعد اُس کی شخصیت میں حیرت انگیز تبدیلی آ گئی۔ اُس کی پڑھائی مزید بہتر ہو گئی، اساتذہ اُس کی تعریف کرنے لگے اور سہیلیاں کہنے لگیں:
"اب تم واقعی اپنے علم کو عمل میں بدل رہی ہو۔"
عائشہ نے یہیں پر بس نہ کیا بلکہ اُس نے اپنی کلاس کی بچیوں کو پڑھانے کا بیڑا اُٹھا لیا۔ وہ روزانہ اسکول کے بعد کچھ بچیوں کو مفت پڑھاتی تاکہ جو علم اُس نے حاصل کیا ہے وہ دوسروں تک بھی پہنچ سکے۔
ایک دن اسمبلی میں استاد نے سب کے سامنے کہا:
"یہ ہے اصل طالبہ! جو نہ صرف پڑھتی ہے بلکہ اپنے علم کو عمل میں ڈھال کر دوسروں کے لیے مثال بن جاتی ہے۔"
عائشہ فخر سے مسکرائی۔ اُس کے دل میں سکون تھا کیونکہ اب وہ جان گئی تھی کہ علم کا اصل مقصد صرف جاننا نہیں بلکہ اُس پر عمل کرنا ہے۔
سبق: علم روشنی ہے، لیکن صرف اُس وقت جب ہم اُسے اپنی زندگی میں عمل کے طور پر اپنائیں۔ بغیر عمل کے علم اندھیرے کے سوا کچھ نہیں۔

0 Comments