کہانی نمبر 8: علم کی طاقت
زید اور بلال ہم جماعت تھے۔ دونوں اچھے دوست تھے لیکن عادتوں میں فرق تھا۔ زید پڑھائی میں دلچسپی لیتا اور ہر وقت کتابوں کے ساتھ مصروف رہتا جبکہ بلال کھیل کود اور شرارتوں میں وقت ضائع کرتا۔
استاد اکثر کہتے:
"بیٹو! علم سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر تم علم حاصل کرو گے تو دنیا میں عزت پاؤ گے۔"
زید یہ بات دل سے مانتا اور ہر روز محنت سے سبق یاد کرتا۔ بلال ہنستا اور کہتا:
"زندگی کا مزہ کھیلنے میں ہے، پڑھائی تو بور کرتی ہے۔"
وقت گزرا، امتحانات قریب آ گئے۔ زید نے تیاری مکمل کر لی، مگر بلال کے پاس وقت کم تھا۔ وہ پریشان ہوا مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔
نتیجہ آنے پر زید نے اسکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ہیڈ ماسٹر نے سب کے سامنے انعام دیا اور کہا:
"یہ ہے علم کی طاقت۔ زید نے ثابت کیا کہ محنت اور علم ہی کامیابی کی کنجی ہیں۔"
بلال کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اُس نے زید سے کہا:
"دوست! تم نے سچ کہا تھا، اب سے میں بھی پڑھائی پر توجہ دوں گا۔"
زید نے مسکرا کر کہا:
"دیر آید درست آید۔ آؤ ہم دونوں مل کر پڑھیں۔"
اس دن سے دونوں دوست مل کر علم حاصل کرنے لگے اور کامیابی کی راہ پر چل پڑے۔
سبق: علم انسان کو ترقی اور عزت بخشتا ہے۔

0 Comments