کہانی نمبر 5: محنت کا پھل
علی ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ اُس کے والد کسان تھے اور گھر کے حالات زیادہ اچھے نہیں تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ علی کے پاس نئی کتابیں اور اچھے کپڑے خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ دوست اُس کا مذاق اُڑاتے کہ "یہ غریب لڑکا کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔"
لیکن علی دل ہی دل میں کہتا:
"میں سب کو دکھاؤں گا کہ محنت کرنے والا کبھی ناکام نہیں ہوتا۔"
وہ پرانی کتابیں اُٹھا کر گھنٹوں پڑھتا۔ رات کو لالٹین کے ہلکے سے چراغ میں بیٹھ کر سبق یاد کرتا۔ اس کی ماں اکثر پیار سے کہتی:
"بیٹا! اتنی محنت کیوں کرتا ہے؟ تھوڑا آرام بھی کر لیا کرو۔"
علی مسکرا کر جواب دیتا:
"امی! ابھی آرام کا وقت نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھ پر فخر کریں۔"
وقت گزرتا گیا اور امتحان کے دن قریب آ گئے۔ سب دوست کھیل کود میں لگے رہے لیکن علی دن رات پڑھتا رہا۔ امتحان کے بعد جب نتیجہ آیا تو سب حیران رہ گئے۔ علی نے اسکول میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے۔ ہیڈ ماسٹر نے سب کے سامنے اُس کا نام پکارا اور کہا:
"یہ ہے محنت کی اصل طاقت۔ علی نے ثابت کر دیا کہ محنت کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔"
دوست جو اُس کا مذاق اُڑاتے تھے، اب شرمندہ ہو گئے۔ انہوں نے علی سے معافی مانگی اور کہا:
"ہمیں بھی تمہاری طرح محنت کرنی چاہیے۔"
علی خوش تھا کہ اُس نے نہ صرف اپنی کامیابی حاصل کی بلکہ دوسروں کو بھی محنت کی اہمیت سمجھا دی۔
سبق: محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔

0 Comments