Good Deeds Never Go Unnoticed – Moral Tale for Children 2025

 کہانی نمبر 4: نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی

احمد ایک نیک دل بچہ تھا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتا۔ ایک دن وہ اسکول جا رہا تھا کہ راستے میں اُس نے دیکھا ایک بوڑھی اماں بھاری ٹوکری اُٹھائے جا رہی ہیں۔ ٹوکری اتنی بھاری تھی کہ اماں بار بار رک رک کر سانس لے رہی تھیں۔

احمد فوراً آگے بڑھا اور بولا:

"اماں جی! یہ ٹوکری مجھے دے دیجیے، میں آپ کے گھر تک چھوڑ آتا ہوں۔"

بوڑھی اماں خوش ہوئیں اور دعائیں دینے لگیں۔ احمد نے ٹوکری اٹھائی اور اماں کے گھر تک پہنچا دیا۔ اماں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:

"بیٹا! اللہ تمہیں خوش رکھے، تم نے میرا بڑا سہارا کیا ہے۔"

کچھ دن بعد احمد سخت بیمار ہو گیا۔ اُس کے والدین فکر مند تھے کیونکہ دوائیوں کے پیسے نہیں تھے۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ وہی بوڑھی اماں دوا اور پھل لے کر آئی تھیں۔ انہوں نے کہا:

"بیٹا، تم نے اُس دن میری مدد کی تھی۔ آج میں تمہاری مدد کے لیے آئی ہوں۔ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔"

احمد کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔ اُس نے سوچا:

"واقعی نیکی کا پھل ہمیشہ ملتا ہے۔"

اس کے بعد احمد اور زیادہ نیکیاں کرنے لگا۔ اُس نے یہ سبق ہمیشہ یاد رکھا کہ کسی کی مدد کرنے سے ہمارا کچھ کم نہیں ہوتا بلکہ اللہ ہمیں اس کا کئی گنا انعام دیتا ہے۔

سبق: نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی، بلکہ نیکی کرنے والے کو ضرور واپس ملتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments